ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا
کہ ڈھونڈھے سے ہم سا نہ پائے گی دنیا
مجھے کیا خبر تھی کہ نقشِ وفا کو
بگاڑے گی دنیا بنائے گی دنیا
محبت کی دنیا میں کھویا ہوا ہوں
محبت بھرا مجھ کو پائے گی دنیا
ہمیں خوب دے فریب محبت
ہمارے نہ دھوکے میں آئے گی دنیا
قیامت کی دنیا میں ہے دل فریبی
قیامت میں بھی یاد آئے گی دنیا
رلا دوں میں بہزاد دنیا کو خود ہی
یہ مجھ کو بھلا کیا رلائے گی دنیا
Post Top Ad
پیر، 13 جولائی، 2009
ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا
بہزاد لکھنوی#
لڑیاں
عامر رانا کے بارے میں
بہزاد لکھنوی
Labels:
بہزاد لکھنوی
Post Top Ad
Author Details
میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!